10 مارچ 2016 - 20:25
ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے تجربے پر امریکی عہدیداروں کے متضاد بیانات

ایران کے بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے پر امریکی عہدیداروں کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں جن سے ان کی بوکھلاہٹ کی عکاسی ہوتی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے پر امریکی عہدیداروں کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں جن سے ان کی بوکھلاہٹ کی عکاسی ہوتی ہے۔

ایک طرف تو وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کے بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے سے جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے تو دوسری طرف امریکہ کے نائب صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ ایران نے بیلیسٹک میزائلوں کا تجربہ کرکے جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔

امریکا کے نائب صدر جوبائیڈن نے اپنے دورہ تل ابیب میں صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو سے ملاقات میں کہا ہے کہ اگر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ایران نے بیلیسٹک میزائل کے تجربات کئے ہیں تو واشنگٹن اس کے خلاف کارروائی کرے گا- امریکی نائب صدر نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے کہ جب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اقتدار ولایت نامی میزائلی مشقوں کے آخری مرحلے میں دور مار میزائلوں منجملہ ہدف پر ٹھیک طرح سے لگنے والے قدر ایچ نامی میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایرو اسپیس ڈویژن اور میزائلی شعبے کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ نے کہا ہے کہ پچھلے چند روز کے دوران مختلف قسم کے دور مار بیلیسٹک میزائلوں کو فائر کیا گیا ہے-

اس درمیان وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران کے بیلیسٹک میزائلوں کا تجربہ تہران کے ساتھ ہوئے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے البتہ واشنگٹن اس کا دوسرے طریقے سے جواب دینے پر غور کر رہا ہے- امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بھی منگل کو کہا تھا کہ واشنگٹن ایران میں بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے متعلق خبروں پر قریب سےنظر رکھے ہوئے ہے اور اگر اس خبرکی تصدیق ہو جاتی ہے تو امریکا اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائے گا- امریکی حکام کی طرف سے ایران کے میزائلی پروگرام کے بارے میں یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں کہ جب جولائی میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے میں ایران کے میزائلی پروگرام کو مستثنی رکھا گیا ہے- البتہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد انیس سو انتیس میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے میزائلوں کا تجربہ نہ کرے جو ایٹمی وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں-

واضح رہے کہ ایران بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ جنگی مقاصد کے لئے کسی بھی طرح کی ایٹمی سرگرمیاں انجام نہیں دے رہا ہے اس لئے وہ ایسے میزائل بھی تیار نہیں کرے گا جو ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں- ایران کے حکام نے بارہا یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے میزائلی تجربات ایٹمی معاہدے اورسلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی نہیں ہیں اور اس کے میزائلی پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169